ناسوت کے پتلے کی یہ توقیر کہاں ہے
یہ کرب کا خواہاں ہے یہ تاثیر کہاں ہے
ملکوت کے پیکر میں ہے بس حکم کی تکمیل
ایک پل بھی بجا لانے میں تاخیر کہاں ہے
جبروت بہت اگے ہے ملکوت کی حد سے
بن عشق کی مستی کے یہ تسخیر کہاں ہے
لاہوت کے پردوں میں چھپے بھید ہیں کیا کیا
وہ دیکھوں تو لکھوں ابھی تحریر کہاں ہے
تھی عشق مجھے تیری طلب روز ازل سے
پر سب کے مقدر میں یہ جاگیر کہاں ہے
فریاد سنے کون تیری اے دل ناداں
انداز تیرا ایسا بھی دلگیر کہاں ہے
اب تک جو ملا ہے مجھے رہزن نہیں ملا ہے
جو تجھ سے ملا دے مجھے وہ میر کہاں ہے
ہو جس کی بلندی کا ثمر خون ہے مسلماں
تحقیر ہے وہ نعرہ تکبیر کہاں ہے
جب دیر لگی شاہ کے انے میں تو زینب
گھبرا کے یہ بولی میرے شبیر کہاں ہے
گھر بار لٹا کر بھی جو پردے کو بچا لے
زینت کی مثل دنیا میں ہمشیر کہاں ہے
سائم کو ملی تیری حضوری سر میزان
اس سے بھی سوا خوبی تقدیر کہاں ہے