موسم دل کا منظر نامہ
روشنی کا سراغ
اب میں نہیں باقی
میں سوچتی ہوں میرے رفیقو
آستین کے سانپ
لوگ خوف کھاتے ہیںآندھی اور طوفاں سےآگ اور پانی سےچور اور ڈاکو سےراہزنوں کے سائے سےرات کے اندھیروں سےبجلیاں چمکنے سےبہت گہری کھائی سےاور بلند پہاڑوں سےبے مُہار صحرا سےگہرے کالے جنگل سے بیکراں سمندر سے برف کے جزیروں سے مُلّاں اور پِیروں سے بہت بڑی گاڑی سے دشمنِ اناڑی سے سیاسیوں کے کھیلوں سے […]
ہر اِک رشتہ کہیں مطلب کی دیواروں میں رہتا رہتا ہے
تم اپنی نیند سے جاگو، تو پوچھوں درد دیکھا ہے؟
چاند اُترا، رات بولی، دل لرزتا جا رہا
وہ ہنس کے بات کرے تو بہار لگتی ہے
وہ ہنس کے بات کرے تو بہار لگتی ہےمگر یہ دل کی شکست آشکار لگتی ہےزباں پہ نرمی، نگاہوں میں روشنی لیکنہر اک ادا میں کوئی اضطرار لگتی ہے کبھی جو جوش میں آئے تو اپنے ہاتھوں سےوہ توڑ ڈالے وہ سب کچھ جو اس نے مانگا ہوکبھی خیال کو جلتی ہوئی لَووں میں رکھےکبھی […]
سنو گر سن سکو مجھکو
سنو گر سن سکو مجھکوبہت اداس ہیں تم بنکہیں بھی چین نہیں آتابہت ہی بے قراری ہےتمہیں فرصت ملے جب بھیمجھے بھی یاد کرلینااگرچہ وقت کہاں تمکوہمارے واسطے کچھ بھیمگر اس پگلی دیوانی کوضرورت ہے تمہاری بھیزرا سوچو تمہارے بنیہ ساون بھی ادھورا ہےخزاں تو ہے ہی بے رنگ سیدسمبر کاٹ کھاتا ہےبہار ازیت بہت […]