کسی اُمید کی حد پر تجھے پیغام لکھا تھا
دلِ بیتاب نے چھپ کر خیال خام لکھا تھا

کہ تیری یاد میں ہمدم دلِ ناکام نے چپکے
قصیدہ پیار کا تجھ کو مگر نا کام لکھا تھا

بہت ناشاد ہیں جاناں نہ جانے مٹ گیا کیسے
ہوا کے دوش پہ اک روز تیرا نام لکھا تھا

وہ لمحہ آج بھی تازہ ، بنا ہے سوچ کا محور
میری آنکھوں کو جب تو نے کبھی اک جام لکھا تھا

وہی اک شام سانسوں کو معطر اب بھی کرتی ہے
دل مشکیں کنارے جب تجھے دو کام لکھا تھا

زمانے نے بھی گھبرا کر نگاہیں ہی چرا ڈالیں
ہماری تحریر پہ اک عجب انجام لکھا تھا

کسی نے حال جب پوچھا تو ہنسنے لگ گئے ہم بھی
مگر دل میں ہمارے بھی تو دردِ عام لکھا تھا

زمانہ پڑھ نہیں پایا میری تحریر جب دل کی
تبھی تو میں نے صبح کو بھی آخر شام لکھا تھا

میری سوچوں میں سائم اب بھی یہ خواہش مچلتی ہے
ؔ وہ پھر واپس پلٹ آئے جسے ہم نام لکھا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *