زباں پہ عدل کے دعوے، عمل خراب تو ہے
کسی کو دینا ہمیں اب کوئی جواب تو ہے
ہر ایک لب پہ مروّت کے استعارے ہیں
مگر ضمیر کے خانے میں کچھ حساب تو ہے
سماج عارضی عورت کو فخر دیتا ہے
یہ اس کی راہ میں رسماً ہی اضطراب تو ہے
رخصت کے وقت باپ بھی رو کے یہ کہہ گیا
اسی کے گھر میں ہی ڈھلنا تیرا شباب تو ہے
یہ کیسا عدل ہے جس میں گناہگار ہے اور
مگر سزا کا مقدّر ہی بے نقاب تو ہے
جو پارسائی کا دیتے ہیں درس لوگوں کو
فقط نگاہ میں عورت ہی انتساب تو ہے
جو مرد ظلم کی بنیاد رکھ کے بیٹھا تھا
اسی کے نام پہ اب نیکی انتخاب تو ہے
لبوں پہ روشنی، کردار میں مگر ہے کلنک
یہی منافقیت کا کھلا نصاب تو ہے
یہ جھوٹا شہر ہے تہذیب کا سچ میں سائم
جو دکھتا باغ حقیقت میں یہ سراب تو ہے