ہم چاہنے کی چاہ میں دیکھو کدھر گئے
تیری ہی بے رخی سے ہم اخر بکھر گئے
ہر چند نیتوں میں تھی کچھ تو وفا مگر
پھر بھی تری نگاہ سے کیسے اتر گئے
سچ بولنے کی دھن نے عجب رنگ دکھائے
محفل میں سب نگاہوں سے کیونکر کتر گئے
جس کے لیے تیار ہمہ وقت رہے ہم
ہر بار سامنے سے وہ آکر گزر گئے
ہر گام رہا ضبط و توازن کا اہتمام
اک لغزشِ خفی سے مگر ہم بکھر گئے
وہ جس کے واسطے ہی کیے تھے حوالے سب
ہم آج دیکھو اس کے ہی دل سے اتر گئے
ہر بار یہ سوچا ہے کہ اب کچھ سنور چلیں
پھر بھی میرے خیال ادھر سے ادھر گئے
ہر بار ایک اور ہی صورت بگڑ گئے
احساس کی شدت نے یہ انجام کر دیا
جتنا سکڑنا/نکھرنا تھا ہمیں اتنا بکھر گئے
سائمؔ یہ ماجرا ہے تری سادہ لوحی کا
دل میں اترنے آئے تھے، دل سے اتر گئے