چاند جیسا، پھول جیسا، روشنی سا ہے وہی
میرے دل کی ہر صدا میں زندگی سا ہے وہی
دل کے ویرانے میں اُس کا نقش ٹھہرا اس طرح
جیسے ویرانوں میں کوئی دل لگی سا ہے وہی
رنگ سارے اُس کی نسبت سے نکھر آتے ہیں اب
یوں مرے ہر زاویے میں تازگی سا ہے وہی
جس طرف دیکھوں اُسی کا عکس اُبھرتا ہے وہاں
آئنے کے روبرو بھی عاشقی سا ہے وہی
دھوپ میں پھیلا ہوا اک نرم تر سایہ لیے
میرے ہمراہِ سفر اک آدمی سا ہے وہی
رات کے پچھلے پہر جب دل بہت تنہا ہوا
ایک مدھم سی دعا میں چاندنی سا ہے وہی
میری خاموشی میں بھی اُس کی صدا شامل رہی
میرے کہنے سے زیادہ ان کہی سا ہے وہی
وقت کی رفتار بھی جس پر اثر کرتی نہ تھی
میرے ماضی حال میں اک دل کشی سا ہے وہی
سادگی اُس کی نہ پوچھو، اک سمندر کی طرح
میرے دل کا ہے سکوں وہ مئے کشں سا ہے وہی
سائمؔ آتا ہی نہیں لفظوں میں وہ حسنِ تمام
میرے ہر اک شعر میں ہی فلسفی سا ہے وہی