دل کا کیا رنگ کروں خونِ تمنا کرتے
چشمِ گریاں سے نمائش سرِ صحرا کرتے

ہجر میں زیست کا ہر موڑ سزا ٹھہرا ہے
کاش ہم ترکِ تمنائے تمنا کرتے

حیف، کچھ عرضِ تمنا بھی نہ کرنے پائے
ورنہ ہم اہلِ جنوں دادِ تماشا کرتے

زخم، تسلیم کی خلعت میں چھپا بیٹھے ہیں
ہم بھی کیا لوگ تھے، اظہار پہ دعویٰ کرتے

حسرتیں خاک ہوئیں، خواب ہوا ہو گئے سب
کاش ہم زخم کو افسانہ بنایا کرتے

سائم، اب تو یہی زیست کا حاصل ٹھہرا
خود کو برباد مگر شان سے زندہ کرتے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *