آنکھیں یقین کھو گئیں جلوؤں کے کھیل میں
دل ڈوبتا ہی جائے ہے سانسوں کے کھیل میں
اب خون کے بھی رشتے نہیں خون کے رہے
رشتے بکھر گئے سبھی پیسوں کے کھیل میں
اونچی عمارتوں کے بہت ذوق و شوق میں
گاؤں کو بھول بیٹھے ہیں شہروں کے کھیل میں
آنکھوں میں پل رہے تھے محبت کے وہ جنوں
اب جل کے رہ گئے سبھی شعلوں کے کھیل میں
ہیروں کی چمک نے ہمیں اندھا بنا دیا ہے
حق چھپ گیا ہے جھوٹے سے رنگوں کے کھیل میں
اندھوں کی ایک بستی ہے، ہم ہیں جہاں مقیم
کھوئی ہے اب صدا یہاں بہروں کے کھیل میں
سانسوں کی دوڑ میں ہی گزاری تمام عمر
جاں ہار بیٹھے ہم یہاں لمحوں کے کھیل میں
پیسوں نے چھین لی ہے سکوں کی وہ روشنی
گھیرا ہے ظلمتوں نے اندھیروں کے کھیل میں
اب لوٹ آؤ میری طرف میرے ہمسفر
کیا رکھّا ہے یوں اجنبی راہوں کے کھیل میں
سجدوں میں سر جھکا تو ملا رب کا آسرا
ورنہ سکوں نہ پایا تھا برسوں کے کھیل میں
آنکھوں سے گر گئے ہیں تکبر کے سب حجاب
جب آ گئے ہم اپنے ہی عیبوں کے کھیل میں
دل کو ملا قرار فقط ذکرِ حق کے ساتھ
ہم ورنہ بھٹکتے رہے لوگوں کے کھیل میں
سائمؔ اب آ گیا ہے شعورِ وفا انہیں
جو ہم سے دور بیٹھے تھے غیروں کے کھیل میں