تم اپنی نیند سے جاگو،  تو پوچھوں درد دیکھا ہے؟
 ہراک دیوار پر لکھّا، ہمارا خون دیکھا ہے؟

یہ خوابوں کے محل، یہ زہر آلودہ فضا کیسی؟
ہر اک چہرے پہ گردِ وقت کا الزام دیکھا ہے؟

یہ بچے بھوک سے بلکیں، یا مائیں چینخیں چِلّائیں
ہر اک ایواں میں بیٹھے فرد کو مکّار دیکھا ہے

یہ نوحہ ہے زمانے کا، یہ ماتم ہے ضمیروں کا
ہر اک سچ بولنے والا بہ سُوئے دار دیکھا ہے

یہ بازارِ سیاست ہے، یہاں عزّت بھی بکتی ہے
یہاں حق مانگتے ہر فرد کو لاچار دیکھا ہے

تم اپنی نیند سے جاگو! ابھی کچھ خواب باقی ہیں
ابھی قرآن باقی ہے یہی ہر بار دیکھا ہے

ابھی سچ بولنے والوں کی آنکھوں میں نمی سی ہے
ابھی کچھ دردِ دل والوں کے دل میں پیار دیکھا ہے

جلاؤ شمعِ حق کو تم، کہ یہ اندھیر بڑھتا ہے
اندھیرا روشنی کو روندتا کئی بار دیکھا ہے

اٹھو! آواز دو ان کو، جو محرومِ نظر ٹھہرے
ہے جن کے لب پہ خاموشی اور دل بیزار دیکھا ہے

جو بچے کل کے قائد تھے، وہ کیوں مجبور ہیں اِمروز؟
درس گاہی کی حکمت کو بھی بے کردار دیکھا ہے

یہ نظمِ نو تمہارا ہے، یہ وقتِ انقلاب آیا
کہ میں نے نسلِ نو تم کو بہت بے حال دیکھا ہے

ہے سائم لکھ رہی خونِ جگر سے حالِ حاضر کو 
حسد اور بے ایمانی کا تمہیں سردار دیکھا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *