ہر اِک رشتہ کہیں مطلب کی دیواروں میں رہتا ہے
محبت کرنے والا بھی سزاواروں میں رہتا ہے
خلوصِ دل فقط افسانہ کرداروں میں رہتا ہے
یہاں ہر شخص خود تک ہے، دغا بازوں میں رہتا ہے
مگر وہ رب، خطاؤں پر بھی پردہ رکھ کے دیتا ہے
کبھی بھائی، کبھی ماں باپ، یا سایا ہے شوہر کا
زبانوں پر ہو شفقت سی، نیت میں کھیل ہو شر کا
دکھاتے سب ہیں چہرہ پیار کا، پردہ ہے نفرت کا
یہ سودا ہے تعلق کا، بکا ہر بول اکثر کا
مگر وہ رب، بنا قیمت کے اپنا پن نبھاتا ہے
نہ کوئی شرط رکھتا ہے، نہ احسانات گنتا ہے
ہزاروں بار ٹھوکر کھا کے بھی آغوش چنتا ہے
خطا پر بھی خفا کم، رحم کا بادل برستا ہے
گناہوں کی سیاہی میں بھی امیدیں جگاتا ہے
مری سجدہ نما آہوں کو وہ مستجاب کرتا ہے
خفا ہوں، دور ہوں، خاموش ہوں یا خود میں گم سُم ہوں
خطائیں میرے دامن پر ہیں یا چاکِ گریباں ہوں
جہاں والے تو ٹھوکر دیں، میں نادم ہوں میں مجرم ہوں
سزاوارہ بھی ہوں پھر بھی، میں اُس کے در پہ محرم ہوں
وہی معبود ہے، جو خود پہ بندے کو لٹاتا ہے
سائم جب گری اُس نے سائم کو سمیٹا تھا
نہ رسوائی کا ڈر تھا، نہ ہی الزام کا پٹا تھا
سفر میں جب اکیلی تھی، وہی تو ساتھ چلتا تھا
دعا خاموش رہتی تھی، مگر دل بول پڑتا تھا
وہی بس ایک ہے، جو بار بار اپنا بناتا ہے
نہ دنیا نے نبھایا اور نہ قسمت نے سنوارا تھا
جہاں کا طنز سہہ کر بھی، اُسی کو دل پکارا تھا
کبھی تقدیر روٹھی تھی، کبھی انسان ہارا تھا
مگر اِک در تھا جس پر ہر قدم پر اعتبارا تھا
وہی در ہے، جہاں انسانیت نے عجز پایا ہے
وہی جو "یٰرَبِّ" کہنے سے زمانے کو بدل دے گا
جو بے سِمتی میں کھوئے شخص کو منزل پہ چل دے گا
عطا کے در کھلے رکھے، سِوا اُس کے نہ دل دے گا
یہی پیغام سائم کا خدا مشکل بدل دے گا
خُدا کو تھام لے، وہ خود ہی سب آسان کر دے