یہاں جو لوگ کہتے ہیں 
وہ سچ میں اک حقیقت ہے
کہ وہ جو دل کو بھاتے ہیں 
ہم جنکے ناز اٹھاتے ہیں 
اصل میں اور ہوتے ہیں 
قابل غور ہوتے ہیں 
تجسس کے بڑھانے کو
کسی کو آزمانے کو
نئی الجھن بڑھانے کو
کہانی سے فسانے کو
باہم تیار رہتے ہیں 
مُجھے سب جھوٹ لگتا تھا 
کہ کچھ ایسا نہیں ہوتا
مجھے بس وہم طاری تھا
سچ زیادہ ہی بھاری تھا
تمہیں معلوم نہ ہوگا 
یہ سلسلہ واجبی نہ تھا 
بہت ہی پیار کی گوڈی۔۔۔۔ 
مدت کی کھاد شامل کر
اسے جزبوں سے سینچا تھا
بدگمانی سے بچایا تھا 
عقیدت کی بارش میں 
اسکی آبیاری کی 
جو زخمی کر سکے تمکو
سبھی کانٹوں کو چھانٹا تھا 
متاع زیست بنا تعلق ! .......
میں پھولے نہ سمائی تھی
میں پہروں مسکرائی تھی
کیا کیا نہ گنگنائی تھی
مگر سیراب تھا یہ سب
یا میرا خواب تھا یہ سب 
مجھے تم نے یہ سمجھایا
میری الجھن کو سلجھایا
کہا ارے احمق زمانے کی
یہ تعلق واجبی سمجھو
اک خالی تم نہیں باقی
جہاں میں اور بھی ساتھی ہیں 
تمہارے ہاتھ جو کچھ ہے
بہت معمولی شے ہے وہ
سبھی لائے وہ محفل میں 
اکیلی تم نہیں سائل
سبھی ہی بھیک منگے ہیں
بٹے گا جو بھی محفل میں 
برابری پیش نظر رکھنا
توقع نہ لگانا کچھ
راضی و شکر رکھنا
کیا میں نے تم سے مانگا تھا؟
مکمل وقت دو مجھکو
سبھی رشتوں کو رد کردو؟ 
جو کچھ بھی ہوا وہ سب 
تمہاری ہی مرضی تھی
مجھے کچھ دوش نہ دینا
نہ کوئی آرزو رکھنا
کہ لوٹاوں وہ سب تمکو....
میرا اپنا طریقہ ہے ۔۔۔۔۔
یہ سب سن کر میں تھی ساکت
پرکھنے سے بھی تھی عاری
زباں لقنت سے لڑکھائی 
مجھے اک سانپ سونگھ بیٹھا
نہ جانے کب تک سنبھلونگی
ذہن کی فیوز تاروں کو
ہاں کب تک جوڑ پاؤں گی 
مگر یہ بھی حقیقت ہے 
وہ در نہ چھوڑ پاؤں گی
چلو گر یہ واحد حل ہے تو
خود ہی کو مار دیتی ہوں 
اک سائل بھیک منگی یا سگہء دربار ہی سمجھو
یہ در تھامے ہی رکھونگی
سبھی آسیں سبھی خواہش
بس اپنے دل تک رکھونگی 
مگر شکوہ نہیں کرنا 
کہ میں اب میں نہیں باقی۔۔۔۔۔۔۔۔
کہ میں اب میں نہیں باقی۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *