کبھی یوں بھی ہوتا ہے
کہ شام کی نیم تاریک ساعتوں میں
جب دن کی تھکی ہوئی دھڑکنیں
خاموشی کی آغوش میں ڈھلنے لگتی ہیں
اور وقت کی نرم چاپ
فضا میں تحلیل ہونے لگتی ہے
تب دل کے کسی ویران دریچے میں
ایک مدھم سی کرن جاگ اٹھتی ہے
جیسے صدیوں سے سوئی ہوئی بستی میں
کسی نے آ کر
امید کا چراغ رکھ دیا ہو
وہ کرن عجب سی ہوتی ہے—
نہ آنکھ اسے پوری طرح دیکھ پاتی ہے
نہ لفظ اسے مکمل بیان کر پاتے ہیں
مگر اس کی حرارت سے
روح کے سرد اور بند کواڑ
آہستہ آہستہ کھلنے لگتے ہیں
پھر خیال کی لہریں اٹھتی ہیں
جیسے ٹھہرے ہوئے پانی پر
چاند اپنی صورت بکھیرنے لگے
اور دل حیرت سے سوچنے لگتا ہے
کہ آخر یہ اجالا کہاں سے آیا
کیا یہ کسی سچے لمس کی یاد ہے؟
کیا یہ کسی خاموش دعا کی بازگشت ہے؟
یا کسی وعدے کی باقی رہ جانے والی خوشبو
جو وقت کے صحرا میں بھی نہیں مرتی
انسان عجب مسافر ہے—
وہ عمر بھر روشنی ڈھونڈتا رہتا ہے
اور جب روشنی اس کے دل کے دروازے پر آ کھڑی ہو
تو وہ خود ہی پلکیں جھکا لیتا ہے
کبھی خوف سے
کبھی عادت سے
اور کبھی اس لیے
کہ سچ کی روشنی
اندر کے سب پردے ہٹا دیتی ہے
مگر دل کے اندر کہیں نہ کہیں
ایک ضدی سا مسافر بھی رہتا ہے
جو اندھیروں کے باوجود
روشنی کی سمت چلنے پر اصرار کرتا ہے
اور شاید یہی مسافر
انسان کو زندہ رکھتا ہے
امید کی آخری لو کی طرح
اسی خیال کی دہلیز پر
اچانک دل نے خود کو پکارا—
اے سائم!
تو کیوں لفظوں میں یہ چراغ جلاتی ہے؟
کیا دنیا کو واقعی روشنی کی طلب ہے
یا تو اپنے ہی اندھیروں سے لڑتی ہے؟
کچھ دیر خاموشی رہی
پھر دل نے دھیرے سے جواب دیا—
اگر ایک بھی دل میں امید جاگ اٹھے
اگر ایک بھی آنکھ میں روشنی ٹھہر جائے
تو لفظوں کی یہ ساری مسافت
رائیگاں نہیں جاتی
اور شاید شاعری کا یہی راز ہے
کہ لکھنے والا دنیا کو نہیں
سب سے پہلے
اپنے ہی دل کو مناتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *