کبھی صحن دل پہ خزاں کی صدا ہے
کبھی با غ امید مہکا ہوا ہے
کبھی ابر خواہش برستا ہے چپ چاپ
کبھی شعلہ غم بھی ہنستا ہوا ہے
محبت وہ سرکش گزرگاہ جیسے
کہاں آہٹیں ،اور کہاں خامشی ہے؟
کبھی ایک لمحہ صدی بن کے گزرا۔۔۔
کبھی عمر بھر کی بھی کم زندگی ہے۔۔
کبھی دوستی شاخ صندل سی نرمی
کبھی زخم رکھ دے وہ بانہوں میں چھپ کر
کبھی پیار چپکے سے پلکوں پہ آ کر
بچھاتا ہے خوابوں کا آنچل لپٹ کر
یہ رشتے یہ لہجے یہ اشکوں کے موتی
کہ جیسے صدف میں چھپی روشنی ہو
کہیں رنجشوں کی سیاہی ہے گہری
کہیں معذرت کی کوئی چاندنی ہو
کبھی ان کہی بات دل پہ چبھے سی
کبھی اک نظر میں جہانوں کا پیغام
کبھی لب پہ خاموشیوں کا سمندر
کبھی لمس بن جائے نظموں کا اک جام
وفا کا تصور تمنا کی حد تک
کبھی خواب بنتا کبھی راکھ ہوتا
کبھی نام لیتی ہیں آہیں کسی کا
کبھی یاد خاموش آ کر رولاتی
تمنا وہ آندھی جو سب کچھ اڑائے
کبھی ضبط کے سنگ خاموش رہتی
کبھی دل کو لے جائے بے نام گلیوں
کبھی عقل سے جنگ کرتی رہی ہے
یہ دنیا یہ چہرے یہ چپ چاپ بندھن
یہ زخموں کے سائے یہ لفظوں سے قاتل
یہ خوشبو سا ہنسنا یہ آنسو کا گرنا
یہ تنہائیاں جن میں ہم رہ گئے ہیں۔۔۔۔
یہ خود کلامی یہ خوابوں کی چادر
یہ تقدیر کی رات یہ امید کا لمحہ
کبھی زیست کی جوت کبھی موت کا خوف
کبھی فن کبھی فکر کبھی نور کی راہ
خیالات خوابوں کے ساحل پہ بیٹھے
لہروں کی مانند اٹھاتے گراتے
کبھی ذات کا ائینہ دھندلا سا لاگے
کبھی عکس اپنا اجالا کیے ہے
یقین ہو گھما کے دو راہوں پہ چل کر
ہم ایسے مسافر بنے ہیں تب سائم
کہ ہر موڑ پہ ہر موسم سا بدلے
نہ منزل نہ رستہ نہ ہم اور نہ تم
نہ منزل نہ رستہ نہ ہم اور نہ تم