مَیں سَرابِ پارِ خُودی ہُوئی، سِرِّ رازِ کُن فَکاں مَیں ہُوں نَہ مَیں قَیدِ جِسمِ مُقَیَّد ہُوں، مَیں تو اِک نُورِ لا مَکاں مَیں ہُوں
مُجھے خاک نے بھی اُبھارا ہے، مُجھے عَرش نے بھی پُکارا ہے مَیں وہ حَرفِ اَوَّلِ آگَہی، جو صَدائے دَورِ رَواں مَیں ہُوں
مِرے دِل مَیں دَرد کی لَو بھی ہے، مِرے لَب پَہ شُکر کی چھاؤں بھی مَیں ہی کَربِ ہِجر کی داستاں، مَیں ہی لُطفِ اِمتِحاں مَیں ہُوں
مُجھے اَپنی ذات کی جُستَجُو، کَبھی ہُوں مَیں حالَتِ وَجد مَیں کَبھی مَیں شِکَستِ نَفس مَیں ہُوں، کَبھی عَزمِ بے کَراں مَیں ہُوں
یِہ جَہاں سَراب کا اِک ہُجُوم، مِرے سامنے ہے دُھواں دُھواں مَیں حَقِیقَتوں کی وہ رَوشنی، جو چُھپی ہُوئی سی گُماں مَیں ہُوں
مِرے اَشک حُجَّتِ حَق بھی ہَیں، مِری اِک ہَنسی بھی دَلِیل ہے مَیں ہی صَبر کی وہ مِثال ہُوں، جو کِہ رَقَم ہَر اِک زَباں مَیں ہُوں
کوئی پُوچھے مُجھ سے مِرا نِشاں، تو یِہی جَواب نِکَلتا ہے نَہ مَیں قَیدِ وَقت مَیں آ سَکی، نَہ کَبھی حُدُودِ مَکاں مَیں ہُوں
مِرا رَبط اَصل سے جُڑ گیا، مُجھے آگَہی کا یَقِیں ہُوا مَیں اَمانَتِ نُورِ کِبرِیا، مَیں تَجَلِّیِ جاوِداں مَیں ہُوں
مَیں ہی صَحنِ دِل کی اَذاں بھی ہُوں، مَیں ہی مَسجِدوں کی صَدا بھی ہُوں مَیں ہی لَذَّتِ سَجدَۂ شَوق ہُوں، سِرِّ رازِ اِک آستاں مَیں ہُوں
مِرے لَفظ لَفظ مَیں آگَہی، مِرے حَرف حَرف مَیں رَوشنی مَیں تو عِلم کی ہُوں وہ اِک کِرَن، جو اُتَر کے ہَر اِک بَیاں مَیں ہُوں
مُجھے تِیرَگی نے بھی پَرکھا ہے، مُجھے رَوشنی نے بھی پَرکھا ہے مَیں ہی شَب کی گَہَری تَھکَن مَیں ہُوں، مَیں ہی صُبح کی کَہکَشاں مَیں ہُوں
مَیں نے وَقت کی ہَر شِکَن کو بھی ڈھالا ہے اَپنے ہی ظَرف مَیں مَیں ہی صَبر کی وہ صَدا سی ہُوں، ہَمَہ وَقت آہ و فُغاں مَیں ہُوں
مِری خاک مَیں بھی نُمُو رَمَق، مِری رُوح مَیں بھی جَہاں بَسی مَیں طَلَب ہُوں اَیسے وِصال کی، جو چُھپی ہُوئی اِک جَہاں مَیں ہُوں
نَہ مَیں صِرف کوئی کَہانی ہُوں، نَہ مَیں مَحض کوئی فَسانَہ ہُوں مَیں حَقِیقَتوں کا وہ راز ہُوں، جو کُھلے تو ہَر اِک نِہاں مَیں ہُوں
مُجھے جاننا ہو تو دِل مَیں آ، مُجھے پانا ہو تو فَنا مَیں آ مَیں ہی رازِ اُلفَتِ بَندَگی، مَیں سِتاروں کی کَہکَشاں مَیں ہُوں
مِری شاعِری مَیں نِکھار ہے، مِرے فِکر مَیں بھی وَقار ہے ذَرا جانچ سائِم کی صَدا، تِری سِمت ہَر اِک اَذاں مَیں ہُوں