لوگ خوف کھاتے ہیں
آندھی اور طوفاں سے
آگ اور پانی سے
چور اور ڈاکو سے
راہزنوں کے سائے سے
رات کے اندھیروں سے
بجلیاں چمکنے سے
بہت گہری کھائی سے
اور بلند پہاڑوں سے
بے مُہار صحرا سے
گہرے کالے جنگل سے
بیکراں سمندر سے
برف کے جزیروں سے
مُلّاں اور پِیروں سے
بہت بڑی گاڑی سے
دشمنِ اناڑی سے
سیاسیوں کے کھیلوں سے
مجمع اور میلوں سے
مفلسی کے طعنوں سے
بے وجہ ندامت سے
ظالموں کے گانوں سے
بے زروں کی آہوں سے
انتشاری جُملوں سے
دشمنوں کے حملوں سے
لوگ خوف کھاتے ہیں
خوف ان سب باتوں کا
ایک فطری نقطہ ہے
خوف سب بجا لیکن
ایک خوف ایسا ہے
جانتے ہوئے جس کو
لوگ چاٹ لیتے ہیں
پر عجیب حیرت ہے
ان تمام چیزوں سے
اور کیا شے ظالم ہے؟
اور شے جو ظالم ہے
عرفِ عام میں اس کو
دوست یار کہتے ہیں
ظاہراً پری رخ ہے
اندروں سے وحشی ہے
اور اس کا گھر اکثر
آستیں میں ہوتا ہے
آستیں میں پلنے کو
سانپ جنم لیتے ہیں
خوف گر جو کھانا ہے
خود کو گر بچانا ہے
آستیں کے سانپوں کو
مار دینا لازم ہے
مشورہ یہ سائم کا
ظاہراً تو اچھا ہے
ہاں مگر حقیقت ہے
آستیں کے سانپ اکثر
دوست یار ہوتے ہیں
اور مروتاً ان کو
زندہ رکھنا پڑتا ہے
زہر ایسے سانپوں کا
چاٹنا بھی پڑتا ہے
پر صرف مروّت میں
پر صرف مروّت میں