اس جہانِ پریشاں میں اے دوستو کوئی مخلص نہیں کوئی یاور نہیں
خواب گاہوں میں چیخیں پٹختی ہیں سر اور کوئی دوا خواب آور نہیں

اس جہانِ فسردہ میں اے دوستو کوئی امید رکھنا نہ انسان سے
ساتھ چلتا ہے مطلب کی خاطر فقط دعوے کرتا ہے پر اپنا بنتا نہیں

دوستو مشفقو صاحبو گل رُخو یہ جہاں ہے کسی ماں کا سینہ نہیں
اس جہاں میں کسی ماں کے مسکین کا کوئی حامی نہیں دست و بازو نہیں

دیکھنے میں حسیں ہیں یہاں وادیاں کم ہی آباد ہیں دل کی آبادیاں
مت کرو اعتبارِ جہاں دوستو مارے جاؤ گے زندہ بچو گے نہیں

ہیں غرور و تکبر کے مینار سب ظلم و جور و جفا کے ہیں حب دار سب
ہیں انائیں فقط درد و آہیں فقط عشق و مستی نہیں کیف و ساماں نہیں

بے سکونی کی فریاد کس سے کریں کس کا در کھٹکھٹائیں کہاں جا رکیں
حالِ دل مخلصوں سے کہیں کس طرح مخلصوں کے کرم ظلم سے کم نہیں

سائمِ خستہ جاں کی نصیحت سنو آج کے دور کی اک حقیقت سنو
ہر کسی خوش زباں شخص کی بات پر کان دھرنا نہیں عمل کرنا نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *