انجانے دل کو یوں ہی تو اُس کا پتہ ہوا
اک لمحۂ نظر میں ہی سب آشنا ہوا

پہلے پہل تو نام بھی اُس کا نہ جانا تھا
پھر دھیرے دھیرے روح کا اک سلسلہ ہوا

اک کششِ نہاں نے یوں دل کو ہی چھو لیا
بیگانہ تھا کبھی جو مرا وہ مرا ہوا

پھر اس کی یاد، درد کا پہلا پیام تھی
ہر سانس ایک ہجر کا گویا مزا ہوا

اک کرب جاگزیں ہوا دل کی زمین پر
ہر خواب ٹوٹ کر بھی نیا سانحہ ہوا

پھر بوجھ سا اترنے لگا اپنی ذات پر
جینا بھی جیسے فرض کا اک مرحلہ ہوا

ہر سوچ میں وہی تھا، ہر اک فیصلہ وہی
اپنا وجود خود سے ہی کچھ فاصلہ ہوا

اک ذمہ داری عشق نے روح کو سونپ دی
ہر سانس کا حساب بھی لازم ادا ہوا

دنیا کے سب اصول وہاں ماند پڑ گئے
جہاں عشق کا بلند تھا نعرہ لگا ہوا

پھر اس کی ذات ہی میں سکوں ڈھونڈنے لگے
جو کرب تھا وہی مرا اب آسرا ہوا

اک نور سا اترنے لگا دل کے شہر میں
ہر زخم رفتہ رفتہ چراغِ وفا ہوا

پھر اس فنا کے بعد عجب اک بقا ملی
ہر شے میں اس کا جلوہ ہی جلوہ نما ہوا

“سائم” یہ راز آخرِ ہستی کھلا ہے یوں
جو کچھ تھا غیر، سب کا اسی میں فنا ہوا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *