تو بچھڑ جائے نہ مجھ سے دل میں ڈر پنہاں رہا
دل اسی اک خوف سے ہر وقت ہی لرزاں رہا

پہلے تو یوں دل نے اس جذبے کو دھوکا ہی کہا
پھر تری آنکھوں میں کوئی سچ سا اک برہاں رہا

یوں لگا جیسے کسی ویران دل کے شہر میں
تم ملے تو چار سو خوشیوں کا کچھ ساماں رہا

دل نے مانا بھی تو مانا تری چاہت کے سبب
عشق اس بے مہر دنیا میں بھی کچھ مہماں رہا/ پروان رہا

پھر وہی اک شخص جس پر پھر بھروسہ کر لیا
دل کے زخموں کے لیے پھر اور ہی طوفاں رہا

جب یقیں آیا تو اس نے ہی یقیں توڑا مگر
یوں مری تقدیر میں اک درد کا عنواں رہا

آستیں میں تو چھپا اک سانپ تھا اے دوستا!!!
تیری باتوں سے مگر دل کو عجب ایماں رہا

اب سمجھ میں یہ نہیں آتا اسے کیا نام دوں
عشق میرا دشمنی ٹھہرا یا پھر درماں رہا

عشق دریا بھی ہے، صحرا بھی، دھواں بھی، شعلہ بھی
جو بھی اس رستے میں پہنچا پھر وہی حیراں رہا

اب محبت سے محبت ہو کہ نفرت ہی سہی
دل محبت میں ہمیشہ ہی مگر ناداں رہا

میں نے سائمؔ جسکو سمجھا تھا حقیقت کی طرح
عشق تو اک خواب تھا جو ٹوٹ کر ویراں رہا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *