تو کسی کے جو نام ہو جائے
عمر میری تمام ہو جائے

ہم جو ٹھہریں ذرا سا اپنے میں
وقت بھی خوش خرام ہو جائے

آئینے سے نظر ملے جب بھی
عکس میرا امام ہو جائے

خامشی اوڑھ لوں اگر اک دن
شور میرا پیام ہو جائے

اپنی ہستی کو جلا کر دیکھوں
نور میرا مقام ہو جائے

خواب بکھری ہوئی حقیقت کے
آنکھ میں التیام ہو جائے

میں جو سمجھوں خودی کا اک نکتہ
نفس میرا غلام ہو جائے

درد کو جب قبول کر لوں میں
یہی میرا انعام ہو جائے

دل کو سادہ رکھوں تو ممکن ہے
ہر تعلق دوام ہو جائے

اپنی خواہش کو ضبط میں رکھ کر
میں ہی اپنا زمام ہو جائے

راہ میں جو بھی اندھیرے آئیں
 حوصلہ میرا شام ہو جائے

لفظ میرے جو سچ اگلتے رہیں
شعر میرا کلام ہو جائے

سائمؔ اب اس قدر سنور جاؤں
میرا ہونا سلام ہو جائے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *