جب دل کی دھڑکنوں کی گرہ کھولتی ہوں میں
خاموشیوں کے شہر میں بھی بولتی ہوں میں

آنکھوں میں جو نہ آئے، وہی اصل ماجرا
لفظوں کے پار جا کے اسے تولتی ہوں میں

دنیا کے تلخ تجربے، یادوں کے زخم سب
ان کو اب اپنے دل میں نہیں رولتی ہوں میں

چہرہ ہے نکھرا نکھرا، مگر جانتا ہے دل
ہر راز کی تہوں میں کہیں ڈولتی ہوں میں

رشتوں کے نام پر جو بکھر جائے زندگی
ایسے فریبِ عہد کو کم تولتی ہوں میں

سچ کی حرارتوں سے سنورتی ہے آگہی
باطن کے ہر ورق میں کہاں جھولتی ہوں میں

اک کربِ آگہی ہے جو رہتا ہے ساتھ ساتھ
اس کو خیال و فکر میں یوں گھولتی ہوں میں

سائمؔ جب اپنی ذات سے ہوتی ہے گفتگو
جب جب سکوت ٹوٹے تو یوں بولتی ہوں میں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *