جگر کی لو میں جلتا ہے گمانِ من، عزیز من
مرا تو بن کے رہ گیا جہانِ من، عزیز من

تو شب کی خامشی میں کچھ یوں میرے ساتھ ساتھ ہے
تو بن گیا سکونِ دل و جانِ من، عزیز من

ہے مانا میں نے تجھ کو اپنا راز ہستی دوستا!!!
تو روحِ من، تو جانِ من، ایمانِ من، عزیز من

میں چپ رہی مگر تری نہ آرزو بھی کم ہوئی
کہیں مرا نہ جاسکا یہ دھیان من،عزیز من

تمہارے زخم زخم سے ہے دل میں پھیلی روشنی
تو بن کے رہ گیا مرا دیوان من، عزیز من

مری ادا میں تو ہی تو مری دعا میں تو ہی تو
تو ہی تو رب کا ہے مرے احسانِ من، عزیز من

مری اداسیوں میں بھی ترا ہی رنگ سنگ ہے
ترے ہی دم سے ہے مری پہچانِ من، عزیز من

ؔسائم ہے بھولنا کٹھن وہ چاہتوں کی ابتدا
جو دل پہ ہے لگا ہوا نشان من، عزیز من

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *