دل میں تیرا غم نہ ہو تو دل کہاں دلدار ہے
دل ہی دل میں دل کا جلنا بھی بڑا آزار ہے

گُل بھی تُو ہے گِل بھی تُو ہی، رازِ ہستی کی قسم
گُل سے خوشبو کی نمود اور گِل سے پیکر دار ہے

تیری سِحر انگیز باتوں میں سحر کا رنگ ہے
تیری ہر خاموش آہٹ بھی عجب اسرار ہے

تیری خبر بھی مجھے اور تِیرا اثر بھی مجھے
دل پہ لگتا ہر نشانہ تیر کا اقرار ہے

ہم سفر بھی تُو، سفر بھی تُو، یہ کیسا مرحلہ
ہر قدم پر اک نیا سا عشق کا معیار ہے

دل کو دِل سے جوڑ دے ایسا ہنر کوئی نہیں
ورنہ دنیا میں دکھاوے کا بہت بازار ہے

پوچھتے ہیں لوگ سائمؔ عشق میں حاصل ہے کیا
مسکرا دیتی ہوں میں — یہ بھی مرا اقرار ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *