ساقیا! اب دل کے میخانے میں تُو ہی تُو رہا
میں مٹا، باقی تری جلوہ گری کا رو رہا

قطرۂ مے بن کے ڈوبا نُورِ ذاتِ بے مثال
اب وہی دریا ہوں جس میں میں کا نام و بو رہا

میں نے جب دیکھی تجلی، حُسن بے پردہ ہوا
آنکھ کھولی تو فقط اک بے خودی کا سو رہا

رند بن کر بھی حقیقت کا مسافر میں ہی ہوں
ہوش میں بھی بے خودی کا مجھ میں ذوق جُو رہا

دل کی بستی میں عجب مینا و ساغر کا سماں
جرعہ جرعہ انکشافِ “کُن” کا رنگ و بو رہا

سر جھکایا جس گھڑی، خود سر اٹھانا ہے خطا
شوق سجدۂ میں فقط تسلیم کا جادو رہا

اب نہ میں باقی، نہ مے باقی، نہ میخانہ کوئی
نَفَسِ حق میں ایک سائم بس سراپا تُو رہا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *