ساقیا! سوزِ طلب میں اک شرر باقی نہیں
خاک ہو کر بھی مری جاں میں اثر باقی نہیں

میں نے مے پی ہے کہ خود کو بھی نہ پہچانا یہاں
ہوش آیا بھی تو دیکھا، ہوش پر باقی نہیں

رند کہلاؤں تو پھر کیا، میکدہ ہے دل میرا
جس میں ہے تُو بس گیا، اب کوئی دَر باقی نہیں

راز پوشیدہ ہے کیا تیری جھلک کے درمیاں
دید ملتی ہے مگر دیدہء تر باقی نہیں

سر نگوں پایا خودی کا سجدے کچھ ایسے کیے
سر جھکا تو سر میں احساسِ سرَر باقی نہیں

اک تبسّم سے تری، سارا جہاں روشن ہوا
کون جانے پھر اندھیروں کا سفر باقی نہیں

ساقیا نذر کرم ہو، ہو عطا تیری نظر
اب دل“سائم” میں کوئی بھی خطر باقی نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *