سنو گر سن سکو مجھکو
بہت اداس ہیں تم بن
کہیں بھی چین نہیں آتا
بہت ہی بے قراری ہے
تمہیں فرصت ملے جب بھی
مجھے بھی یاد کرلینا
اگرچہ وقت کہاں تمکو
ہمارے واسطے کچھ بھی
مگر اس پگلی دیوانی کو
ضرورت ہے تمہاری بھی
زرا سوچو تمہارے بن
یہ ساون بھی ادھورا ہے
خزاں تو ہے ہی بے رنگ سی
دسمبر کاٹ کھاتا ہے
بہار ازیت بہت دیتی
سبھی موسم بے مطلب سے
کبھی تاروں کے جھرمٹ میں
تمہیں یہ ڈھونڈتی آنکھیں
ہاں اکثر بھیگ جاتی ہیں
کبھی دشت و صحرا کی
اڑتی دھول آنکھوں کو
زرا پتھرا سا دیتی ہے
کبھی جنگل کی ہریالی
دل ویراں کی حالت کو
زرا چکرا سی دیتی ہے
چلو زیادا نہیں زرا سا ہی
میسر آ سکو مجھکو
ویرانی کو مٹا جانا
مراسم توڑنا مت تم
روابط جوڑ کر جانا
سنو گر سن سکو مجھکو
بہت اداس ہیں تم بن ۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *