محبّت بھیک تھوڑی ہے
جو در در جا کے مانگیں ہم؟
نہ اس کی کوئی قیمت ہے
نہ اس کا مول ممکن ہے
یہ اُن دلوں کا سودا ہے
جنہیں دنیا کی نہ ہو پروا
نہ ہجر و وصل کا غم ہو
نہ اپنی ذات کی چاہت
نہ دوجا پن، نہ خود فریبی
محبّت تو وہ آئینہ ہے
جو خود ہی عکس دیتا ہے
جو خود سے خود کو مٹاتا ہے
تو پھر وہ عشق کہلاتا ہے

نہ دستک، نہ صدا کوئی
بس اک خاموشیِ کامل
جو لفظوں سے پرے جا کر
تمہیں تم سے ملا دے گی
یہ دل جب سچ میں دھڑکے گا
تو ہر دھڑکن میں وہ ہو گا
نہ دن باقی، نہ راتیں ہوں
نہ موسم ہوں، نہ ساعت ہو
بس اک احساس — زندہ سا
جو سانسوں میں رواں ہو گا

محبّت روگ تھوڑی ہے
جو بخشش کی طرح مانگیں ہم
یہ تو دریا ہے، بہتا ہے
کبھی لہروں سے ٹکرا کر
کبھی چپ چاپ روتا ہے
کبھی سینے میں سلگتا ہے
کبھی آنکھوں سے برستا ہے

تو اے دل!!!
مانگنے والوں سے
کیوں تم خود کو جوڑو گے؟
یہ سودا اہلِ دل کا ہے
یہ بازاروں میں ہے بکتا کب؟
یہ ہر قیمت سے بالا تر
یہ ہر خواہش سے اونچا ہے

سائم نے جو یہ جانا تو
قلم بھی خامشی برسا گیا
“محبّت بھیک تھوڑی ہے
یہ تو خود میں خدا سا راز !”

محبّت بھیک تھوڑی ہے
جو در در جا کے مانگیں ہم
یہ دل اک آئینہ خانہ ہے
نہ اس میں زخم سجتے ہیں
نہ اس میں ہاتھ پھیلیں گے
محبّت خود میں کافی ہے
اگر سچ ہو، اگر سادہ —
تو حرفوں میں بھی جلتی ہے
تو خاموشی میں بولے گی

ہم اپنے درد سے نکلے
تو پائے تھے یہ راز آخر
کہ دل کا کام مانگے کا
نہ تھا، نہ ہے، نہ ہو گا کچھ

سائم نے جب قلم چُھوّا
تو اک آواز یوں نکلی:
“محبّت مانگی جاتی ہے؟
یہ تو دل کی عبادت ہے۔۔۔

محبت بھیک تھوڑی ہے۔۔۔۔
جو در در جا کے مانگیں ہم۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *