مفلسوں کو کاٹ کر ہموار راہ کر دیا
بادشاہوں نے یوں خود کو شہنشاہ کر دیا
رنگ اس دورِ ریا نے اس قدر گہرا بھرا
ایک سادہ آدمی کو ہم گناہ کر دیا
سچ عدالت میں کھڑا تھا سر جھکائے آج بھی
جھوٹ کو منصف نے کیسے بادشاہ کر دیا
لوگ مسند پر ہیں بیٹھے بے حسی کو اوڑھ کر
ہر نگاہِ صاف کو لیکن تباہ کر دیا
بھوک اور مفلس مزاجی کی ہوا ایسی چلی
اک ضمیرِ است آدمی کو رو سیاہ کر دیا
نیک رہنا جرم ٹھہرا اس طرح اس شہر میں
جس نے حق کی بات کی اس کو تباہ کر دیا
اب برائی ہی یہاں سائم بنا دستور ہے
وقت نے ہر سادہ دل کو درد آہ کر دیا