ملنے کی آنکھ رکھ، نہ زماں کا اشارہ دیکھ
جو پیش ہے نسبت میں فقط وہ خسارہ دیکھ

غفلت کا دور تھا وہ محض میں کا دور تھا
گر پا چکا ہے راز ؟ حقیقت دوبارہ دیکھ

میری سادگی پہ نہ جا ، میرے اندر حلول کر
ظاہر نہ میرا دیکھ ۔۔۔ ہاں باطن بیچارہ دیکھ

قربان جاؤں تیری سادہ دلی پہ دوست
تو مجھ پہ مر رہا ہے ؟؟؟ میرا دل بیچارہ دیکھ

برباد کر رہی تجھے نفس کی طلب۔۔۔۔
فرمان الٰہی کو تو ، کُچھ تو خُدارا دیکھ

بندے کو بخش دیتا ہے وہ ایک بل میں بھی
تُو رو کے اُسکے آگے ،کرم کا نظارہ دیکھ

دل کو سکون دے گا فقط ذکرِ حق کا نُور
دنیا کے جھوٹ چھوڑ ،،، حقیقت کا تارا دیکھ

ڈوبا ہوا ہے جسم گناہوں کی دلدلوں ۔۔۔۔۔
توبہ کی راہ لے در رب دوبارہ دیکھ ۔۔۔۔۔

سائم کھو نہ جائے کہیں مہلت حیات
آتی نہیں پلٹ کے کوئی بھی دوبارہ دیکھ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *