میری پلکوں پہ جو ستارے ہیں
یہ بھی احسان سب تمھارے ہیں
گفتگو بھی کمال ہے اتنی
جتنے انسان آپ پیارے ہیں
دل کی بستی میں نور سا کیوں ہے
ساتھ کچھ پل تیرے گزارے ہیں
تیری آمد سے یوں لگا جیسے
خواب برسوں کے اب سنوارے ہیں
جب سے دیکھا ہے تو نے ہنس کے مجھے
میرے جینے کے یہ اشارے ہیں
تیری نظروں کی اک عنایت سے
دل کے سب زخم بھی گوارے ہیں
بن تمہارے یہ ہجر کی راتیں
کاٹی اشکوں کے ہی سہارے ہیں
شب تری یاد کی ضیا نے کہا
غم ترے روشنی کے پارے ہیں
جو میری گفتگو میں نرمی ہے
یہ بھی انداز سب تمھارے ہیں
ہم نے مانا کہ تم جدا بھی ہو
پھر بھی رستے وہی ہمارے ہیں
تیری مسکان کی قسم سائمؔ
زندگی کے یہی نظارے ہیں