میں سوچتی ہوں میرے رفیقو
کہ میری ہستی کو کیا ہوا ہے؟
میں سوچتی ہوں کہ میری آنکھوں کے ساحلوں پر
یہ خوں کی بارش رہے گی کب تک؟
میں سوچتی ہوں کہ میرے کندھے
تمام دھرتی کا بوجھ اُٹھائے کھڑے ہوئے ہیں
میں سوچتی ہوں کہ میری آنکھوں کو
دیکھنا کب نصیب ہوگا؟
میں سوچتی ہوں کہ ذہن
دوزخ کے اِک قلعے میں حصار بند ہے
میں سوچتی ہوں کہ جیسے دل کو
کسی نے آ کر کُچل دیا ہے
میں سوچتی ہوں کہ میرے پاؤں
جو کب سے زنجیر میں پڑے ہیں
تمام تر ان اذیتوں سے
کبھی تو آزادیاں ملیں گی
مگر بتاؤ میرے رفیقو
میں چارہ گر کو کہاں سے لاؤں؟
یہ سب خرابے کہاں سناؤں؟
میں دل کی رمزیں کہاں پہ کھولوں؟
میں خواب اپنے کسے سناؤں؟
کہ اب تو کُچھ بھی نہیں ہے باقی
مگر اِک حرفِ گِلہ بچا ہے
جو یہ کہ سائم ہے اس جہاں میں
اُجاڑ راتوں کے کھنڈروں میں
بھٹکتی روح کی طرح اکیلی
تمام تر ان اذیتوں کی بس اِک وجہ ہے
وجہ یہ ہے کہ میرے مسیحا ہیں میرے مُجرم
میرے ہی مُنصف ہیں میرے غاصب
پلے ہیں میری ہی آستیں میں
مجھی کو ڈستے رہے ہیں پَیہم
لبوں پہ شہد اور دل میں بُغض و حسد چھپائے
تمام ایسے شفیق میرےرفیق میرے
مجھے ہیں پیارے مجھے ہیں پیارے
مجھے ہیں پیارے مجھے ہیں پیارے