مے پلائے جا سُکوں کو، روئے جاںاں، تیری خیر
عشق میں ہے سب تماشا، عقل حیراں، تیری خیر
میں نے چاہا ہوش رکھنا، تُو نے مستی بخش دی
اب جہاں میں کچھ نہ باقی، بس وہ پیماں، تیری خیر
اک نگاہِ ناز میں کیا رنگ بھرتی ہے فنا
دل ہو خالی یا بھرا ہو، سب کا ساماں، تیری خیر
آئینہ تھا میں، مگر وہ عکس ایسا بن گیا
اب مرے اندر بھی تُو ہے، اب تو پہچاں، تیری خیر
جس گھڑی تیری حضوری کا سرور آیا نظر
میں وہیں مِٹ کر رہی اے کوئے جاںاں، تیری خیر
تیرا جلوہ ایک دریا، میری ہستی ایک موج
ڈوب جاؤں بھی تو ٹھہروں، یہ کرم داں، تیری خیر
مےکدے کی راہ پر ہوں، اور دل روشن بھی ہے
یہ گنہ بھی توبہ بن جائے تو ایماں، تیری خیر
میں جو مِٹ کر تُجھ میں آئی، تب سمجھ پائی یہ بات
کہ یہی مِٹنا ہے جینا، یہ ہی ساماں، تری خیر
دل کی دھڑکن بھی تری ہے، سانس کا لمحہ بھی تُو
اب تو ہر لمحہ عبادت، ہر نفس جاں، تیری خیر
کفر کے نرغے میں ہے تو اپنے بھی غدار ہیں
اب تیرا مولا نگہباں اے مسلماں، تیری خیر
سائم اب لب بستہ ہے اور نُور سے لبریز ہے
اس کرم بخشی کے صدقے اے مہرباں ، تیری خیر