نبیؐ کے نقشِ قدم سے ہی ناخدائی ملی
دلوں کو ذکرِ خدا سے ہی بادشاہی ملی

حسینؑ صبر کی تفسیر، فاطمہؑ اطہر
علیؑ کے عدل سے عدالت کو پذیرائی ملی

محمدؐی ہے وہ نسبت جو خاک سونا کرے
اسی نسبت سے فقیری کو شہنشاہی ملی

کلیمؑ نے بھی جلا پائی طور کے دل سے
خلیلؑ کو بھی وفا کی ہی کجکلاہی ملی

جو کٹ گیا انا سے، وہی امیر ہوا
فقیر کو ہی حقیقت سے آشنائی ملی

نہ تخت مانگا، نہ تاج، نہ نام کی خواہش
دعا میں جھکنے سے بس دل کو پارسائی ملی

بتوں سے ٹوٹ کے جو ایک رب سے جُڑ بیٹھا
اسی کو دل کے نہاں خانوں سے آگاہی ملی

یہی ہے درسِ تصوف: مٹا دے “میں” کو اگر
ہر ایک سانس میں پھر تازہ بے ریائی ملی

نہ فرق شیخ و حرم، نہ امیر و درویش
جہاں محمدؐی نسبت کی روشنائی ملی

سخن میں عاجزی آئی تو بات کر گئی گھر
سائمؔ کو اہلِ محبت کی ہم نوائی ملی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *