وفا کے بدلے جفا جو کی ہے یہ تم نے اچھا نہیں کیا ہے
تمہیں بھی جس دن وفا کے بدلے دغا ملے گی تو کیا کروگے

تمہیں تو ہم نے اعزاز بخشا، وفائیں بخشیں، ایمان بخشا
تمہاری چاہت سے خالی دامن جو تم لوٹائے!!! تو کیا کروگے

میری شکستہ سی زندگی کا کوئی بھی پہلو نہیں چُھپا ہے
تمہیں بلندی نے گر کبھی جو اٹھا کے پٹخا تو کیا کروگے

میری صدائیں و آہ وزاری تیری نظر میں تو کچھ نہیں تھیں
تمہارے دل کا کوئی اشارہ جو ہم نہ سمجھے تو کیا کروگے

کبھی تو سوچو ان راستوں سے پلٹنا کتنا کٹھن ہوا تھا
تمہیں جو چاہت کے راستوں سے پلٹنا ہوگا تو کیا کروگے

تمہاری راہوں کے خار چن کر پور میرے زخم زخم ہیں
تمہارے پیروں میں کوئی کانٹا جو اب چبھے گا تو کیا کروگے

میری محبت پہ طعنہ زن ہیں زمانے والے کئی طرح سے
تمہیں جو طعنوں کے تیر و نشتر لگائے جائیں تو کیا کروگے

بچھڑتے لمحے زرا نہ سوچا جیئں گے کیسے تمہارے غم میں
کبھی جو واپس پلٹ کے آؤ،،مجھے نہ پاؤ تو کیا کروگے

لو آج سائم چلی جہاں سے زمانے والوں کو الوداع ہے
تلاش قبروں کو کرتے کرتے ملی نہ تربت تو کیا کروگے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *