وہ جو ہر رستے میں خود کو ناخدا کہتا رہا
بےسبب طوفان کا قصّہ صدا کہتا رہا❤️
خود ہی دامن داغ دار اور خود ہی منصف وہ رہا
ہر خطا کا بوجھ یوں اُس پر سدا کہتا رہا
اس کے لفظوں میں بھی اک زہرِ ملامت ہی رہا
مسکرانے کو بھی وہ جرمِ خطا کہتا رہا❤️
چاند جیسی نرم فطرت کو بھی دنیا میں یہاں
صرف اک سایہ، اک آہِ بے نوا کہتا رہا
زخمِ خاموشی کو میں نے ہی چھپایا ہے مگر
پر وہی ہر درد کو میرے نیا کہتا رہا
میرے رستے، میرے خوابوں کے چراغوں تک کو وہ
اپنے قدموں کے تلے کا اک قصّہ کہتا رہا
راہِ الفت ہو کہ رشتہ ہو کہ گھر کی داستاں
ہر جگہ میرا ہی دل قیدِ بلا کہتا رہا❤️
سہہ کے بھی پتھر،نہ میں پتھر بنی اُس کے لیے
وہ مجھے ہر بار اک سایہ ہَوا کہتا رہا❤️
میری قربانی کو بھی اُس نے مگر سمجھا ہنر
اور وہ میرا ہنر میری ادا کہتا رہا
میں نے اسکو صبر کے کاندھے بٹھایا پھر بھی وہ
میرے صبرِ بےنوا کو بھی سزا کہتا رہا
وقت کے صحرا میں میں نے پیاس کی مٹّی سہی
وہ مگر ہر تشنگی کو بےبہا کہتا رہا❤️
میری آنکھوں میں جو اک ڈوبا ہوا تارا تھا بس
وہ اُسے بھی خواب کی اُجڑی ضیا کہتا رہا
گھر کی دیواروں پہ خاموشی تھی میرے نام کی
اور وہی خاموشیوں کو ماجرا کہتا رہا❤️
جو میں روتی بھی تو بارش کی طرح ٹوٹا ہوا
میری ہر آہ کو بھی وہ ماورا کہتا رہا
میں نے سیکھا اپنے اندر روشنی رکھنا مگر
وہ میری ہر روشنی کو بھی خطا کہتا رہا
زندگی کے موڑ پر میں مستقل پتھر بنی
وہ مجھے ہر موڑ پر اک مسئلہ کہتا رہا
دل کے کتبے پر جو میں نے عشق کا حرفا لکھا
وہ اُسے خام خیالِ بے ندا کہتا رہا❤️
کچھ حقیقت تھی، کچھ افسانہ تھی میری داستاں
پر وہی ہر سچ کو جھوٹی ابتدا کہتا رہا❤️
آج بھی سائم میں اسکو سوچتی ہوں بارہا
کون تھا جو کس کو آخر ہی خطا کہتا رہا❤️