وہ چہرہ جس پہ موسم بھی دعا بن کر برستے ہیں
وہ انکھیں جن کے منظر خواب کی قیمت سے سستے ہیں

وہ لب جن کے تبسم سے ستارے جھک کے ملتے ہیں
وہ زلفیں جن کی چھاؤں میں زمانے رنگ بدلتے ہیں

میں چاہوں تو بیاں کر دوں تیری اک اک ادا کو بھی
مگر یہ نشترِ دنیا زباں کو قید کرتے ہیں

یہ دن کی گرد شاموں کی تھکن کے بخیہ گر تیشے
تیری تعریف کرنے کی طلب کو دفن کرتے ہیں

میں لفظوں میں تیری صورت کو ڈھالوں پر کہاں فرصت
مشاغل کارِ دنیا کے بہم مصروف کرتے ہیں

یہ دنیا قید خانہ ہے یہاں خوابوں کی قیمت ہے
زباں فریاد کرتی ہے ہُنر بے موت مرتے ہیں

اے سائم اُن سے کچھ کہنا ابھی تک رہ گیا باقی
یہ لب کچھ کہہ نہیں پاتے یہ کچھ کہنے سے ڈرتے ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *