وہ ہنس کے بات کرے تو بہار لگتی ہے
مگر یہ دل کی شکست آشکار لگتی ہے
زباں پہ نرمی، نگاہوں میں روشنی لیکن
ہر اک ادا میں کوئی اضطرار لگتی ہے
کبھی جو جوش میں آئے تو اپنے ہاتھوں سے
وہ توڑ ڈالے وہ سب کچھ جو اس نے مانگا ہو
کبھی خیال کو جلتی ہوئی لَووں میں رکھے
کبھی وہ خواب بھی خود ہی سے چھین ڈالے ہو
نہ دشمنوں سے شکوہ، نہ دوستوں سے گلہ
عجیب ضد ہے کہ خود ہی کو آزمایا جائے
جو دل نے لکھا تھا رتجگوں کی تنہائی میں
اسی تحریر کو خود ہی مٹایا جائے
وہ اپنی ذات کی مٹی میں بیج بوتی ہے
پھر اپنے ہی ہاتھوں فصل کو روند دیتی ہے
یہ کیسی جنگ ہے جس میں کوئی مقابل نہیں
مگر یہ خود ہی کو ہر بار ہار دیتی ہے
کسی نے پوچھا تو ہنس کر یہ کہہ دیا اس نے
کہ سب ٹھیک ہے، بس یوں ہی ذرا سی باتیں ہیں
کسی کو کیا خبر اندر کا شور کیسا ہے
یہ مسکراہٹیں بھی کتنی بے ثباتیں ہیں
مگر یہ زخم اگر بانٹ لے کسی دل سے
تو درد آہستہ آہستہ کم بھی ہو جائے
جو بوجھ روح پہ رکھا ہے برسوں تنہا نے
وہ چند آنسوؤں میں شاید ہلکا ہو جائے
ذرا یہ سیکھ لے خود سے بھی مہرباں ہونا
ہر اک شکست کو لازم نہیں سزا کہنا
جو گر پڑے تو یہ حق ہے کہ ہاتھ تھامے خود
ہر امتحان کو قسمت کی بددعا کہنا
یہ بھی علاج ہے چپ چاپ سب سہہ جانے کا
کہ اپنے فن کو امانت سمجھ کے پالے وہ
جو ٹوٹتی ہے تو پہلے بچائے خود کو وہ
پھر اپنے خواب، اپنی تحریر سنبھالے وہ
اُسے خبر ہی نہیں ہے کہ قیمتی ہے وہ
کہ اس کی سانس میں کتنی ہی کائنات بسی
سائمؔ یہ کون سمجھائے اس نازک دل کو
کہ خود سے صلح ہی اصل میں نجات بنی