پہلے پہل وہ چہرہ ہی دل کا خدا لگا
پھر وہم اپنے دل کا مجھے ہی بجا لگا
آنکھوں نے جس کو نورِ حقیقت سمجھ لیا
اک دن کھلا تو عکسِ نفس دھند سا لگا
ہر سمت اس کی یاد کے سائے تھے اس قدر
ہر شے میں اس کا رنگ مجھے آشنا لگا
پھر دل نے پوچھا: اصل میں معبود کون ہے؟
پردہ ہٹا تو ایک ہی جلوہ بجا لگا
جس کو میں ڈھونڈتی رہی کوچۂ ہوس میں
وہ دل کے آئنے میں ہی روشن سدا لگا
اک عمر صرف صورتِ جاناں میں کھو گئی
باطن کا در کھلا تو نیا راستہ لگا
لفظوں میں جس کو قید کیا، وہ نہ پا سکی
خاموشیوں میں اس کا ہی نقشِ بقا لگا
دنیا کے سب چراغ مرے سامنے بجھے
تب جا کے دل میں نورِ ازل کا دیا لگا
جو کچھ بھی تھا وہ خواب تھا، تعبیر کچھ نہ تھی
جاگی تو ہر خیال مجھے بے صدا لگا
میں نے ہی اپنے آپ کو دھوکا دیا بہت
ہر چہرہ آئینہ تھا مگر دوسرا لگا
جب ترک کی طلب تو میسر ہوا سکوں
ہر سانس میں وہ قرب کا لطفِ خفا لگا
رہبر بھی تھا وہ راہِ طلب بھی اسی کی تھی
ہر موڑ پر وہی مجھے حرف دعا لگا
ہر موڑ پر وہی مجھے اپنا خدا لگا
سائمؔ مجاز تھا یا حقیقت کی راہ تھی
اب اس کی ہر ادا میں مجھے مدّعا لگا