چاند اُترا، رات بولی، دل لرزتا جا رہا،
آج شاید یار راضی ہو، یہ دل سوچا رہا۔
راستے سنسان، لیکن یاد کی آہٹ ابھی
اشک سے لکھی دُعا، ہر سانس میں آہٹ ابھی۔
میں نے دِیے رکھے تھے اُس راہ پر روتے ہوئے
اب وہی دیے بجھے ہیں، دل کے ساتھ سوتے ہوئے۔
چاندنی ٹوٹی زمیں پر، دل نے پوچھا، "کیا ہوا؟"
خامشی بولی کہ شاید خواب نے رُخ موڑ لیا۔
میں نے در کھٹکھٹایا، پر ہوا نے کچھ بھی نہ کہا
سایہ بھی رُک گیا جیسے، دل نے خود کو توڑ لیا۔
سوچتی ہوں — کاش کہہ دوں، “اب میں بدلی جا چکی”
پر زباں ہے کپکپکاتی، ہیں نگاہیں رو چکی۔
میں جو روئی، میں جو ٹوٹی، میں جو نادم ہو گئی
وہ جو ہنسا کرتا تھا مجھ پر، آنکھ پر نم ہو گئی۔
یار سن لے، چھوڑ دے ضد، اب یہ پردہ کھول دے
میری آنکھوں میں جو تیری بات ہے، وہ بول دے۔
پھر صدا آئی — ہوا میں، روشنی کے شور میں
"میں یہیں تھا، تری سانسوں کے ہر اک دستور میں۔
تُو سمجھتی تھی کہ میں نے دور رستہ چُن لیا
میں تو تیری نَس میں بسا، تُو نے خود سے بُن لیا۔
میں نے اشکوں میں تری تقدیر کا نقشہ رکھا
تو نے دیکھا ہی نہیں، دل پہ جو در کھلا رکھا۔
میں نے چُپ ہو کر تجھے دیکھا، کہ تُو پہچان لے
خامشی میں بھی صدا دی، اب کے تو بھی جان لے
تُو نے سمجھا دور ہوں میں، درمیاں دیوار ہے
میں تو دل کے بیچ رہتا ہوں، یہی تو پیار ہے۔
میں نے تیرا دل جلایا، تا کہ وہ پر نُور ہو
تیرے زخموں میں چھپایا، لطفِ جو مستور ہو۔
اب جو لوٹی ہے تُو سائمؔ، میں بھی لوٹا ہوں صنم
فاصلے سب مِٹ گئے، سب غم چھٹیں گے اب صنم
میرے ہونے کا یہی مطلب تُو خود کو مان لے،
میں تری سانسوں میں ہوں، لفظوں میں ہوں، یہ جان لے
اب نہ ڈر، نہ خوف کر، سائم کسی بھی بات کا
میں تری ہی ذات ہوں، یہ ہے کرم اس ذات کا
تو جو روئی، جو مَیں رویا، تو ہنسی، میں بھی ہنسا
وصل وہ لمحہ ہے جس میں، تُو نہیں، مَیں ہی مَیں رہا۔
اب نہ رنج ہجر کا موسم، نہ جُدائی کا زہر،
میں ہی تیری راہ، میں ہی خواب، میں ہی ہوں سحر۔
اب نہ دیکھ تو آسماں کو، نہ زمیں پر چل کے دیکھ
تُو اگر خود کو دکھا دے، میں تجھے ہر پل میں دیکھ۔
وصال ایک لمحہ نہیں — یہ اب ازل کی راہ ہے
میں جو ہوں، تُو جو ہے، بس یہی اللہ کی چاہ ہے۔
سائمؔ کو اب نہ خوف ہے، نہ کوئی فاصلہ رہا
یار دل میں اتر آیا، وصل کا لمحہ رہا۔