چراغِ دِلوں میں جلاتی گئی ہوں
وفاؤں کی خوشبو بساتی گئی ہوں

محبت مری اک عبادت بنی ہے
میں ہر درد پر مسکراتی گئی ہوں

نہ چاہا صلہ، نہ کوئی مدعا تھا
بس اک عشق میں ڈوب جاتی گئی ہوں

مجھے راہِ الفت نے سجدے سکھائے
میں ہر موڑ پر سر جھکاتی گئی ہوں

نہ جنت کا سودا، نہ دنیا کی چاہت
بس اس کی رضا میں لُٹاتی گئی ہوں

کبھی خاک ہو کر، کبھی نُور ہو کر
میں ہر رنگ میں خود کو پاتی گئی ہوں

یہی عشق ہے، رازِ ہستی کا پردہ
میں اس پردہ کو بھی ہٹاتی گئی ہوں

ہزاروں صُبحیں تھیں، شب ہائے تنہا
مگر میں اُسی میں سماتی گئی ہوں

جہاں نفرتوں نے کیا شور برپا
میں خاموش دھڑکن سناتی رہی ہوں

محبت وہ جو نفس سے اوپر نکلے
میں خواہش کو قربان پا تی گئی ہوں

کبھی اشک آنکھوں میں پلکوں پہ ٹھہرے
تو ہنستی رہی، بس نبھاتی گئی ہوں

بدن کی حدوں سے نکل کر، سنو تو
میں رُوحوں کا رشتہ بناتی گئی ہوں

مجھے اس کا ہر دُکھ بھی سچّا لگا ہے
میں ہر سانس میں شکر گاتی گئی ہوں

یہی وصل کی شکل ہے، یہی ہجر کا رنگ
میں ہر حال میں اُس کو پاتی گئی ہوں

جو تیری نظر میں فنا تھی، سائمؔ
اسی کو حقیقت بناتی گئی ہوں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *