کبھی تمہیں خبر بھی ہو، جو دل پہ بیتتی رہی
یہ شام ویسے کٹ گئی، مگر نہ جیتتی رہی
نہ تم نے درد بانٹے،کچھ نہ ہم نے اشک وا کیئے
یہ بےصدا سی زندگی، فقط سسکتی ہی رہی
جب تم نے ذات بیچ دی تو ہم نے غم چھپا لیئے
نہ تم بھی باوفا رہے، نہ ہم گِلہ بھی کر سکے
تمہیں ملا سکونِ جاں، ہمیں ملی فقط تھکن
محبتوں کی مٹی سے، فقط فسانے بن سکے
اگر ہوں میں حرفِ غلط ۔تو پھر مٹا بھی دیجئے۔۔۔
کہ جیسے بےمعنی ہوا، کوئی ورق کتاب کا
مجھے تمہارے شہر میں، کبھی پناہ نہ مل سکی
میں دربدر بھٹکتی ہوں، تمہیں خبر ہی کیا رہی
تمہاری سوچ میں رہا، فقط تمہارا فائدہ
ہماری چاہتوں کا تم، کبھی شمار کر سکے؟
محبتوں کی حد میں بھی، حساب چل پڑے اگر
تو میں خسارے میں رہی، تمہیں منافع ہو گیا
ہم اک نظر کے منتظر، تم اک نظر سے بھی گئے
عجب یہ فاصلہ رہا، جو پل صدی سا بن گیا
اب اور کیا کہے سائم، گلہ بھی ہو تو کس سے ہو؟
وہ شخص خواب سا رہا، جو آنکھ کھلتے کھو گیا
تم اپنے خواب لے گئے، ہمارے خواب جل گئے
جو ساتھ چلنے آئے تھے، وہ سب تھکن میں ڈھل گئے
کبھی جو ہم نے مانگا تھا، وہ تم نے دے دیا سہی
مگر وہ ایک لمس تھا، جو لفظ میں ڈھلا نہیں
تمہارے ہر فریب پر، سکوت ہم نے اوڑھا بس
یہی قصور تھا مرا، یہی سزا ملی کھلی
تمہیں جو جیتنا تھا بس، ہمیں جو ہارنا پڑا
سو کھیل تم نے کھیلا اور، ہماری جاں پہ بن گئی
ہمارا نام، رسم تک، تمہاری بات میں نہ تھا
ہم ایک عجیب نظم تھے، تمہاری بندگی میں بھی
محبتیں جنھیں کہا، وہ مجھ کو قرض لگنے لگیں
تمہارے پاس جو بھی تھا، وہ میرا حق تو نہ ہوا
کبھی جو لوٹنا چاہو، تو اب صدا نہیں رہی
یہ راہ جس پہ تم گئے، وہاں دعا نہیں رہی
یہ آخری صدا سائم، اسے بھی دل سے رکھ لو تم
کہ اب نہ ہم کہیں گئے، نہ تم کہیں کے ہو سکے