ہر طرح چاہا تجھے، خود کو مٹانا تھا مجھے
تھا وفا کا قرض مجھ پر جو چکانا تھا مجھے
ابتدا میں اک حسیں خوابِ فسانہ تھا یہ دل
رفتہ رفتہ درد دل کو پھر بڑھانا تھا مجھے
تو نے دیکھا ہی نہیں میری عبادت کا ہنر
خود کو تیری راہ میں کتنا جھکانا تھا مجھے
بے رُخی تیری نے آخر یہ سکھایا ہے سبق
دل لگانا بھی خطا، دل سے بھلانا تھا مجھے
یوں تو سینے میں بسا کر تجھ کو رکھا تھا کبھی
نقش سینے سے ترا لیکن مٹانا تھا مجھے
زخم ایسے تھے کہ مرہم بھی اثر کھو بیٹھا ہے
اپنی حد سے بڑھ چکی تھی ڈگمگانا تھا مجھے
داستانِ درد آخر لب تلک آ پہنچی ہے
وہ چھپا پائی نہ آخر جو چھپانا تھا مجھے
خود سے خود کا راز بھی ہائے چھپا پائی نہ میں
کچھ نہ ہو خود کو خبر ایسے مٹانا تھا مجھے
پیار کو دل سے کھرچنا کب کہاں آسان ہے
ڈھال کر غزلوں میں اس کو گنگنانا تھا مجھے
وہ کسی کے ساتھ جانے کو اگر تیار تھا
خود کو نظروں میں ہی خود کی کب گرانا تھا مجھے
اب نہ دہراؤں گی ہرگز عشق نامی یہ خطا
سائمؔ اپنے ہی لیے خود کو بچانا تھا مجھے