ہم چاہنے کی چاہ میں دیکھو کدھر گئے

ہم چاہنے کی چاہ میں دیکھو کدھر گئےتیری ہی بے رخی سے ہم اخر بکھر گئے ہر چند نیتوں میں تھی کچھ تو وفا مگرپھر بھی تری نگاہ سے کیسے اتر گئے سچ بولنے کی دھن نے عجب رنگ دکھائےمحفل میں سب نگاہوں سے کیونکر کتر گئے جس کے لیے تیار ہمہ وقت رہے ہمہر […]

میری پلکوں پہ جو ستارے ہیں

میری پلکوں پہ جو ستارے ہیںیہ بھی احسان سب تمھارے ہیں گفتگو بھی کمال ہے اتنیجتنے انسان آپ پیارے ہیں دل کی بستی میں نور سا کیوں ہےساتھ کچھ پل تیرے گزارے ہیں تیری آمد سے یوں لگا جیسےخواب برسوں کے اب سنوارے ہیں جب سے دیکھا ہے تو نے ہنس کے مجھےمیرے جینے کے […]

زباں پہ عدل کے دعوے، عمل خراب تو ہے

زباں پہ عدل کے دعوے، عمل خراب تو ہےکسی کو دینا ہمیں اب کوئی جواب تو ہے ہر ایک لب پہ مروّت کے استعارے ہیںمگر ضمیر کے خانے میں کچھ حساب تو ہے سماج عارضی عورت کو فخر دیتا ہےیہ اس کی راہ میں رسماً ہی اضطراب تو ہے رخصت کے وقت باپ بھی رو […]

تو بچھڑ جائے نہ مجھ سے دل میں ڈر پنہاں رہا

تو بچھڑ جائے نہ مجھ سے دل میں ڈر پنہاں رہادل اسی اک خوف سے ہر وقت ہی لرزاں رہا پہلے تو یوں دل نے اس جذبے کو دھوکا ہی کہاپھر تری آنکھوں میں کوئی سچ سا اک برہاں رہا یوں لگا جیسے کسی ویران دل کے شہر میںتم ملے تو چار سو خوشیوں کا […]

کسی اُمید کی حد پر تجھے پیغام لکھا تھا

کسی اُمید کی حد پر تجھے پیغام لکھا تھادلِ بیتاب نے چھپ کر خیال خام لکھا تھا کہ تیری یاد میں ہمدم دلِ ناکام نے چپکےقصیدہ پیار کا تجھ کو مگر نا کام لکھا تھا بہت ناشاد ہیں جاناں نہ جانے مٹ گیا کیسےہوا کے دوش پہ اک روز تیرا نام لکھا تھا وہ لمحہ […]

مفلسوں کو کاٹ کر ہموار راہ کر دیا

مفلسوں کو کاٹ کر ہموار راہ کر دیابادشاہوں نے یوں خود کو شہنشاہ کر دیا رنگ اس دورِ ریا نے اس قدر گہرا بھراایک سادہ آدمی کو ہم گناہ کر دیا سچ عدالت میں کھڑا تھا سر جھکائے آج بھیجھوٹ کو منصف نے کیسے بادشاہ کر دیا لوگ مسند پر ہیں بیٹھے بے حسی کو […]

دل میں تیرا غم نہ ہو تو دل کہاں دلدار ہے

دل میں تیرا غم نہ ہو تو دل کہاں دلدار ہےدل ہی دل میں دل کا جلنا بھی بڑا آزار ہے گُل بھی تُو ہے گِل بھی تُو ہی، رازِ ہستی کی قسمگُل سے خوشبو کی نمود اور گِل سے پیکر دار ہے تیری سِحر انگیز باتوں میں سحر کا رنگ ہےتیری ہر خاموش آہٹ […]

ناسوت کے پتلے کی یہ توقیر کہاں ہے

ناسوت کے پتلے کی یہ توقیر کہاں ہےیہ کرب کا خواہاں ہے یہ تاثیر کہاں ہے ملکوت کے پیکر میں ہے بس حکم کی تکمیلایک پل بھی بجا لانے میں تاخیر کہاں ہے جبروت بہت اگے ہے ملکوت کی حد سےبن عشق کی مستی کے یہ تسخیر کہاں ہے لاہوت کے پردوں میں چھپے بھید […]

وہ جو ہر رستے میں خود کو ناخدا کہتا رہا

وہ جو ہر رستے میں خود کو ناخدا کہتا رہابےسبب طوفان کا قصّہ صدا کہتا رہا❤️ خود ہی دامن داغ دار اور خود ہی منصف وہ رہاہر خطا کا بوجھ یوں اُس پر سدا کہتا رہا اس کے لفظوں میں بھی اک زہرِ ملامت ہی رہامسکرانے کو بھی وہ جرمِ خطا کہتا رہا❤️ چاند جیسی […]

چاند اُترا، رات بولی، دل لرزتا جا رہا،

چاند اُترا، رات بولی، دل لرزتا جا رہا،آج شاید یار راضی ہو، یہ دل سوچا رہا۔ راستے سنسان، لیکن یاد کی آہٹ ابھی،اشک سے لکھی دُعا، ہر سانس میں آہٹ ابھی۔ میں نے دِیے رکھے تھے اُس راہ پر روتے ہوئے،اب وہی دیے بجھے ہیں، دل کے ساتھ سوتے ہوئے۔ چاندنی ٹوٹی زمیں پر، دل […]